6.17.2010

میری ڈائری کا ایک ورق

میں تمہیں فوق الانسان کا مقام بتاتا ھوں۔انسان سے ارفع و اعلی ھونا ضروری ھے۔
تم نے اس سلسلہ میں کیا کوشش کی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی عظمت یہ ھے کہ وہ غایت نہیں ھے بلکہ پل ھے۔جو چیز انسان کی سرشت میں محبت کی سزاوار ھے وہ یہ ھے کہ انسان تغیر پذیر اور زوال آمادہ ھے۔
میں ان انسانوں کو چاھتا ھوں جو زندگی بسر کرنے کا ایک ہی طریقہ جانتے ہیں۔یعنی موت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ یہی لوگ مقام انسانیت سے آگے بڑھ رھے ہیں۔میں ان انسانوں کو چاہتا ھوں جن کے دل میں شدید نفرت موجزن ھے۔
کیونکہ ان ھی کے دل شدید پرستش کے احساس سے لبریز ہیں یہ لوگ وہ تیر ھائے آرزو ہیں جو دوسرے ساحل کی طرف رواں ہیں۔
میں ان انسانوں کو چاہتا ہوں جو اپنی موت اور قربانی کا جواز ڈھونڈنے کےلئے ستاروں سے آگے نہیں جاتے بلکہ جو اپنے آپ کو اسی کرہ زمین کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیتے ہیں تاکہ یہ کرہ کسی دن فوق الانسان کا ضامن ہو جائے۔
وقت آن لگا ھے کہ انسان اپنی منزل مقصود کو متعین کرے۔وقت آ گیا ھے کہ انسان اپنی جلیل ترین امیدوں کے بیچ زمین میں بودے۔
اگر انسان کو اپنی منزل مقصود کا علم نہ ھو تو کیا انسان ناقص نہیں؟
اپنے ہمسائے سے محبت کرنا کوئی ایسی بڑی بات نہیں۔مستقبل کے انسان سے محبت کرنا مقام جلیل تک پہنچنا ھے۔

*فلسفہِ زندگانی سے اقتباس"